ابنا: مظاہرین کے پتھراوٴ سے ڈی سی او میانوالی زخمی ہو گئے جبکہ ڈی پی او اور دیگر پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا گیا۔میانوالی کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی اپیل پر شہر میں مکمل شٹر ڈاوٴن کیا گیا، ہزاروں افراد نے جہاز چوک میں دھرنا دینے کے بعد چشمہ پاور پلانٹ کی جانب مارچ کیا، پولیس نے مارچ کے شرکاء کو روکنے کے لئے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ فائرنگ بھی کر دی،جس دوران گولیاں لگنے سے مارچ میں شریک دو افراد ہلاک ہو گئے، مشتعل مظاہرین نے پولیس پرجوابی پتھراوٴ کر دیا جس سے علاقہ میدان جنگ بنا رہا ، پتھراوٴ سے وہاں موجود ڈی سی او میانوالی زخمی ہو گئے۔ڈی سی او کو اسپتال داخل کرانے پر بڑی تعداد میں مظاہرین نے اسپتال کا گھیراوٴ کر لیا اور ڈی سی او تک پہنچنے کی کوشش کی۔اس موقع پر مظاہرین نے ڈی پی او میانوالی اور بعض پولیس اہلکاروں کا بھی گھیراوٴ کر کے ان سے سرکاری اسلحہ چھین لیا ،پولیس نے مظاہرے میں شریک ایک شخص کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے پستول برآمد کر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز